عالمی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ایک ارب ڈالر مالیت کے صارف تحفظ فنڈ (SAFU) میں موجود اسٹیبل کوئنز کو آئندہ 30 روز کے دوران بٹ کوائن میں تبدیل کر دے گا۔ یہ اقدام بتدریج کیا جائے گا اور اس کے دوران باقاعدہ آڈٹ کیے جائیں گے تاکہ شفافیت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
SAFU فنڈ بائننس نے 2018 میں شروع کیا تھا تاکہ ہیکنگ یا نظامی نقصانات جیسے غیر معمولی حالات میں صارفین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ یہ فنڈ بائننس کی ٹریڈنگ فیسز کا ایک حصہ ہوتا ہے اور صارفین کی دیگر اثاثوں سے الگ سرد بٹوے میں رکھا جاتا ہے۔ 2019 میں جب بائننس پر ایک سیکیورٹی حملے میں تقریباً 7,000 بٹ کوائن چوری ہوئے تھے، تب یہ فنڈ متاثرہ صارفین کو مکمل طور پر معاوضہ دینے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
بائننس نے مزید کہا ہے کہ اگر بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے فنڈ کی مالیت 800 ملین ڈالر سے کم ہو جائے تو وہ اپنے خزانے سے اسے دوبارہ ایک ارب ڈالر تک بحال کرے گا۔ اس فیصلے کو ایک طویل المدتی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا بنیادی ذخیرہ اثاثہ بنانا ہے، نہ کہ صرف تجارتی آلہ۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ اس دوران بٹ کوائن کی قیمت 83,000 ڈالر سے نیچے آ گئی ہے اور مجموعی مارکیٹ کیپسٹلائزیشن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
بائننس نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ آئندہ ممکن ہے کہ فنڈ میں دیگر بنیادی اثاثے، جیسے ان کا اپنا BNB ٹوکن، بھی شامل کیے جائیں۔ یہ تبدیلی بائننس کی صارفین کے تحفظ اور کرپٹو مارکیٹ کی مضبوطی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا حصہ ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine