حال ہی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک اور تیز کمی نے مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سلور بلین کے بانی گریگور گریگرسن نے اس کمی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کمی عمومی منافع کی وصولی کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی منصوبہ بند کارروائی کا حصہ ہو سکتی ہے۔ این ایس تھری اے آئی کے تجزیات کے مطابق، بڑی سرمایہ کاری کرنے والی ادارے عموماً اپنے اثاثے آہستہ آہستہ بیچتے ہیں تاکہ مارکیٹ پر منفی اثرات کم سے کم ہوں، لیکن حالیہ تیزی سے ہونے والی گراوٹ کے دوران کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔
قیمتی دھاتیں جیسے سونا اور چاندی مالیاتی تحفظ کے طور پر عالمی سرمایہ کاروں میں خاصی مقبول ہیں اور انہیں عام طور پر مہنگائی اور معاشی غیر یقینی کے خلاف محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، حالیہ مارکیٹ میں تیزی سے قیمتوں کی گراوٹ سے تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ صورتحال مزید مندی کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ ایسی غیر متوقع تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں اور مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے، لیکن اس تیزی سے ہونے والی کمی کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کار اپنے فیصلے بہتر انداز میں کر سکیں۔ آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی صورتحال پر خاص نظر رکھنا ہو گا تاکہ کسی ممکنہ مندی سے پہلے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی اور سیاسی تبدیلیاں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جسے سرمایہ کاروں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance