ایل سلواڈور کے مرکزی بینک نے سونے کی 50 ملین ڈالر کی خریداری کی، حکومت نے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری جاری رکھی

زبان کا انتخاب

ایل سلواڈور، جو دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کے طور پر قبول کیا ہے، کے مرکزی بینک نے حال ہی میں سونے کی مقدار میں اضافہ کرتے ہوئے تقریباً 50 ملین ڈالر کے سونے کی خریداری کی ہے۔ اس کے نتیجے میں، بینک کے پاس اب 360 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا سونا موجود ہے۔ دوسری جانب، ملک کی حکومت، جس کی قیادت صدر نائیب بوکیلے کر رہے ہیں، بٹ کوائن میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اس کے پاس بٹ کوائن کی مالیت تقریباً 635 ملین ڈالر ہے۔
ایل سلواڈور کی یہ مالی حکمت عملی ملک کی معیشت کو متنوع بنانے اور کرپٹو کرنسی اور روایتی اثاثوں کے امتزاج سے مالی استحکام حاصل کرنے کی کوشش کے تحت ہے۔ بٹ کوائن کو قانونی حیثیت دینے کے بعد سے، ملک نے متعدد مواقع پر اس کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ہے، جس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام میں اپنی جگہ مضبوط کرنا اور بیرون ملک بھی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ تاہم، بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باعث مالی خطرات بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے حکومت نے سونے جیسا مستحکم اور روایتی اثاثہ بھی اپنے ذخائر میں شامل کرنا شروع کیا ہے۔
سونے کی خریداری سے ملک کی مالی پوزیشن میں استحکام آنے کی توقع ہے، کیونکہ سونا تاریخی طور پر مالی بحرانوں اور مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ ایل سلواڈور کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی مالی حکمت عملی میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کرپٹو کرنسی کی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
آئندہ کے منظرنامے میں، اگر بٹ کوائن کی قیمت میں مزید استحکام آیا تو ایل سلواڈور کی یہ سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اگر قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آیا تو حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ملکی مالی حکام کی توجہ متنوع اثاثوں پر مرکوز رہنے اور خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے