گوگل نے اپنی مقبول ویب براؤزر کروم میں جیمینی 3 کو ایجینٹک براؤزنگ کی صلاحیتوں کے ساتھ شامل کر دیا ہے، جس کا مقصد ویب براؤزنگ کو خودکار اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اس اقدام سے گوگل نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے دیگر معروف کمپنیوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے، جو خودکار براؤزنگ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ایجینٹک براؤزنگ کا مطلب یہ ہے کہ براؤزر صارف کی جانب سے کم سے کم مداخلت کے ساتھ ویب سائٹس پر خودکار طریقے سے عملدرآمد کر سکتا ہے، جیسے معلومات تلاش کرنا، فارم بھرنا یا دیگر آن لائن سرگرمیاں انجام دینا۔
یہ نئی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے انداز کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیونکہ صارفین اب زیادہ پیچیدہ کام بھی آسانی سے انجام دے سکیں گے۔ گوگل کی جانب سے جیمینی 3 کو کروم میں ضم کرنا اس کے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش رفت کا مظہر ہے، جو گوگل کی کلاؤڈ اور سرچ سروسز کے ساتھ بھی گہرے تعلقات رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل کی یہ پیش رفت مارکیٹ میں خودکار براؤزنگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھاوا دے سکتی ہے، جو ویب ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔
تاہم، اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی منسلک ہیں، جیسے صارف کی پرائیویسی کا تحفظ اور براؤزر کے ذریعہ خودکار عملدرآمد کی حدود کا تعین۔ اس کے علاوہ، گوگل کی یہ پیش رفت دیگر کمپنیوں کے لیے مقابلے کو سخت کر سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں جدت اور صارفین کے لیے بہتر خدمات کی فراہمی کا امکان بڑھ جائے گا۔
مجموعی طور پر، گوگل کی جانب سے کروم میں ایجینٹک براؤزنگ متعارف کروانا ویب براؤزنگ کے شعبے میں ایک اہم قدم ہے، جو صارفین کے تجربے کو مزید جدید اور آسان بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں اس ٹیکنالوجی کے اثرات اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز کو دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt