بٹ کوائن کی قیمت نے حال ہی میں نو ماہ کی کم ترین سطح 82,134 ڈالر کی حد چھو لی ہے، جس کی وجہ عالمی مالیاتی پالیسیوں میں تیزی سے تبدیلیاں اور امریکی صدر کے فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کے اعلان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران مارکیٹ میں لیکوئڈیشنز کی مقدار میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ لیکوئڈیشن کا مطلب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنے پوزیشنز کو بند کرنا اور بڑی مقدار میں اثاثے بیچنا ہوتا ہے، جو قیمتوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ کچھ سالوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کی قیمتوں میں اضافہ اور کمی عالمی مالیاتی حالات، حکومتی پالیسیاں اور سرمایہ کاروں کے جذبات پر منحصر ہوتا ہے۔ حالیہ پالیسی تبدیلیوں، خاص طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی میں ممکنہ سختی کے اشارے، نے کرپٹو مارکیٹ میں استحکام کو متاثر کیا ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی صدر کے فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کے حوالے سے اعلان نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھایا ہے، جس سے مارکیٹ میں تیزی سے فروخت کا رجحان ظاہر ہوا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی یہ صورتحال کرپٹو مارکیٹ میں مزید غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، مگر عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کا اثر خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے۔ مستقبل میں اگر عالمی مالیاتی پالیسیاں سخت رہیں تو کرپٹو مارکیٹ میں مزید کمی کا امکان ہے، جبکہ مثبت اقتصادی اشارے قیمتوں میں استحکام لا سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt