چین نے میانمار سے منسلک فراڈ اسکیموں میں ملوث جرم خاندان کے گیارہ ارکان کو پھانسی دی

زبان کا انتخاب

چین میں حکام نے میانمار سے منسلک فراڈ اسکیموں میں ملوث ایک معروف جرم خاندان کے گیارہ ارکان کو پھانسی دے دی ہے۔ یہ خاندان منگ فیملی کے نام سے جانا جاتا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر فراڈ کے ذریعے 1.4 ارب ڈالر کی غیر قانونی آمدنی حاصل کی۔ ان الزامات میں اسکیم کمپاؤنڈز چلانا بھی شامل تھا، جہاں سے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کی مالی وسائل ہتھیائے جاتے تھے۔
یہ اقدام چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے مالی جرائم اور بین الاقوامی فراڈ کے خلاف سخت کارروائی کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ منگ خاندان کا یہ نیٹ ورک خاص طور پر میانمار میں قائم تھا جہاں اس نے فراڈ کی مختلف اسکیمیں چلا کر بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کیا۔ فراڈ کمپاؤنڈز ایسے مراکز ہوتے ہیں جہاں گروہ منظم طریقے سے دھوکہ دہی کے عمل کو منظم کرتے ہیں، اور یہ اسکیمیں عام طور پر آن لائن سرمایہ کاری یا جعلی کرپٹو کرنسی منصوبوں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔
چین کی حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں مالی جرائم، خاص طور پر آن لائن فراڈ اور کرپٹو کرنسی اسکیموں کے خلاف کڑی قانونی کارروائیاں کی ہیں تاکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ پھانسی کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین مالیاتی جرائم کے خلاف اپنی صف بندی میں بہت سنجیدہ ہے اور ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔
آنے والے وقت میں بھی اس قسم کے نیٹ ورکوں کے خلاف نگرانی اور کارروائیاں جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ عوام کو مالی نقصانات سے بچایا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی نظام کی سالمیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے