روس جولائی میں بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیوں کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرائے گا، ریٹیل سرمایہ کاروں کو شرکت کی اجازت

زبان کا انتخاب

روس اپنی پہلی جامع کرپٹو کرنسیز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانے جا رہا ہے جس کے تحت بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قانونی تجارت کی اجازت دی جائے گی۔ مقامی ذرائع کے مطابق، پارلیمنٹ میں اس قانون کا مسودہ جون کے آخر تک منظور کے لیے پیش کیا جائے گا اور اگر منظور ہو گیا تو یہ قانون ایک سال بعد نافذ العمل ہوگا، یعنی یکم جولائی 2027 سے نہ صرف مستند بلکہ غیر مستند سرمایہ کار بھی کرپٹو مارکیٹ میں حصہ لے سکیں گے۔
اس نئے قانون کے تحت ریٹیل سرمایہ کاروں کو کرپٹو کرنسی کی خریداری کی اجازت دی جائے گی مگر خریداری کی حد مقرر کی جائے گی۔ غیر مستند سرمایہ کار ایک سال میں 300,000 روبل (تقریباً 3,900 امریکی ڈالر) تک کی خریداری کر سکیں گے اور انہیں صرف وہ کرپٹو کرنسیاں خریدنے کی اجازت ہوگی جنہیں ریگولیٹرز “سب سے زیادہ لیکویڈ” قرار دیں گے۔ دوسری جانب، پیشہ ور اور مستند سرمایہ کار کرپٹو کرنسیز کی غیر محدود خرید و فروخت کر سکیں گے، تاہم پرائیویسی پر مبنی ٹوکنز جیسے مونیرو اور زی کیش پر پابندی برقرار رہے گی کیونکہ حکام ان کی شناختی شفافیت اور اینٹی منی لانڈرنگ قواعد کی خلاف ورزی کے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
ماسکو کی وکیل الیکسانڈرا فیڈوٹووا کے مطابق، مرکزی بینک روس میں ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے پانچ سے دس سب سے زیادہ مقبول کرپٹو کرنسیز کی فہرست مرتب کرے گا جس میں بٹ کوائن اور ایتھر شامل ہوں گے۔ ممکن ہے سولانا اور ٹون جیسی کرپٹو کرنسیاں بھی شامل کی جائیں، جبکہ دیگر کرپٹو کرنسیاں صرف مستند سرمایہ کاروں کے لیے محدود رہیں گی۔
یہ قانون روسی شہریوں کو بیرون ملک سے بٹ کوائن خرید کر اسے مقامی پلیٹ فارمز پر منتقل کرنے کی بھی اجازت دے گا بشرطیکہ وہ ٹیکس حکام کو اس کی اطلاع دیں۔ اس کے علاوہ، اس قانون میں سٹیبل کوائنز کو الگ سے ریگولیٹ کرنے کی تجاویز ہیں تاکہ انہیں بین الاقوامی تجارت کے لیے قانونی حیثیت دی جا سکے۔
نیا قانون کرپٹو کرنسی کی تجارت کے علاوہ اس کے اجراء، کان کنی اور گردش کے لیے بھی قواعد وضع کرے گا، لیکن کریپٹو کو گھریلو ادائیگی کے لیے استعمال کرنے پر پابندی برقرار رہے گی جیسا کہ مرکزی بینک نے پہلے بھی موقف اختیار کیا تھا۔ اضافی قوانین میں غیر قانونی کرپٹو سرگرمیوں کے خلاف مالی، انتظامی اور ممکنہ طور پر فوجداری سزاؤں کا تعین بھی شامل ہوگا۔
اس ریگولیٹری فریم ورک کے تحت موجودہ لائسنس یافتہ ایکسچینجز اور بروکرز کام جاری رکھ سکیں گے، جبکہ غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ پلیٹ فارمز کو نئی مخصوص لائسنسنگ حاصل کرنا ہوگی تاکہ قانونی دائرے میں آ سکیں۔
یہ اقدام روس کی کرپٹو پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اس شعبے کو منظم اور محفوظ بنانے کی کوشش ہے، ساتھ ہی ملک میں کرپٹو کرنسی کے استعمال کو محدود اور کنٹرول کرنے کی حکومتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے