بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے مشہور کرپٹو کرنسی ہے، نہ صرف سونے کی طرح محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ بننے میں ناکام نظر آ رہا ہے بلکہ ادائیگیوں کے لیے بھی اس کی افادیت محدود ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور اس کے استعمال میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور صارفین دونوں اس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔
بٹ کوائن کو ابتدائی طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد روایتی مالی نظام سے ہٹ کر تیز اور آسان مالی لین دین فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس کی ٹرانزیکشن کی رفتار اور فیسیں اکثر ادائیگیوں کے لیے غیر موزوں ثابت ہوتی ہیں، خاص طور پر روزمرہ کی چھوٹی خریداریوں میں۔ اس کے علاوہ، دیگر کرپٹو کرنسیاں اور بلاک چین پر مبنی مختلف پروٹوکولز اب زیادہ کارآمد اور کم خرچ متبادل فراہم کر رہے ہیں۔
سونے کو ہمیشہ سے ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے جہاں سرمایہ کاری محفوظ رہتی ہے اور اس کی قیمت وقت کے ساتھ مستحکم رہتی ہے۔ بٹ کوائن کو بھی اسی طرز پر “ڈیجیٹل سونا” کہا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور استعمال کی مشکلات نے اس تشبیہ کو کمزور کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اس کے متبادل یا دیگر اثاثوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں جو زیادہ استحکام اور سہولت فراہم کریں۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نئی ٹیکنالوجیز اور کرنسیوں کا ظہور ہو رہا ہے جو بٹ کوائن کی جگہ لے سکتے ہیں۔ مستقبل میں بٹ کوائن کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی ساخت اور ٹیکنالوجی میں بہتری لانی ہوگی تاکہ وہ نہ صرف سرمایہ کاری کے لیے بلکہ ادائیگیوں کے لیے بھی قابلِ اعتماد بن سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk