امریکی فیڈرل ریزرو کی مالیاتی پالیسی ایک غیر معمولی دور سے گزر رہی ہے جہاں مرکزی بینک اپنی شرح سود اور دیگر مالیاتی فیصلے مکمل طور پر اقتصادی ڈیٹا پر مبنی کر رہا ہے۔ چارلس شواب یوکے کے مینیجنگ ڈائریکٹر رچرڈ فلن کے مطابق، فیڈ ممکنہ طور پر مئی 2026 تک اس ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی کو جاری رکھے گا جب تک کہ افراط زر یا لیبر مارکیٹ میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آئے۔
یہ حکمت عملی امریکی مالیاتی پالیسی میں ایک منفرد تبدیلی کی عکاس ہے کیونکہ عام طور پر فیڈ اپنی پالیسیوں میں مستقبل کے امکانات اور سیاسی دباؤ کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ فلن نے کہا ہے کہ اس غیر معمولی دور میں مالیاتی خودمختاری اور مالیاتی اتھارٹی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے فیڈ کی ادارہ جاتی ساکھ اور اس کے فیصلوں کی سنجیدگی مزید اجاگر ہو رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو امریکہ کا مرکزی بینک ہے جو ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے شرح سود میں تبدیلی کرتا ہے، مہنگائی کو کنٹرول کرتا ہے اور مالیاتی نظام کی صحت کو یقینی بناتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں، امریکی معیشت نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا، جن میں گلوبل مالیاتی بحران اور حالیہ کووڈ-19 وباء شامل ہیں، جس نے مالیاتی پالیسی کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔
ڈیٹا پر مبنی پالیسی کا مطلب ہے کہ فیڈ اپنی مالیاتی پالیسیوں کو حقیقی وقت میں معیشتی اعداد و شمار جیسے روزگار کی شرح، قیمتوں میں تبدیلی، اور دیگر معاشی اشاریوں کی روشنی میں ترتیب دیتا ہے۔ اس سے پالیسی سازوں کو زیادہ لچک ملتی ہے لیکن ساتھ ہی مالیاتی اور سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
آئندہ کے لیے، اگر افراط زر میں اچانک اضافہ یا لیبر مارکیٹ میں غیر متوقع تبدیلیاں آئیں تو فیڈ اپنی حکمت عملی میں ردوبدل کر سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں فیڈ کی کوشش ہے کہ وہ معیشت کو مستحکم رکھتے ہوئے مالیاتی خودمختاری کو برقرار رکھے تاکہ امریکی معیشت کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance