مصنوعی ذہانت کا کاروباری حکمت عملی اور فردی مہارتوں پر اثر

زبان کا انتخاب

نینو لیبز کے سی ای او جیک کانگ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے عمل درآمد کو آسان اور کم خرچ بنا دیا ہے، تاہم اب حکمت عملی کے انتخاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کاروباری دنیا میں مقابلہ بازی کا مرکز اب عمل درآمد سے حکمت عملی اور نظریے کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جبکہ انفرادی سطح پر مہارتوں کی بجائے فیصلے اور ذوق کی قدر بڑھ گئی ہے۔
یہ رجحان خاص طور پر ویب 3 اور کرپٹو کرنسی کے شعبوں میں نمایاں ہو رہا ہے جہاں تکنیکی رکاوٹیں کم ہو گئی ہیں اور کام کو نافذ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود، رجحانات کا درست اندازہ لگانا اور اثاثوں کی صحیح تقسیم اب کلیدی مہارت بن چکی ہے۔ وہ چیزیں جو آسانی سے نقل کی جا سکتی ہیں، اب کم قیمتی سمجھی جاتی ہیں، اور منفرد بصیرتیں ہی اصل اثاثہ بن چکی ہیں۔
ویب 3 ٹیکنالوجی ڈی سینٹرلائزڈ انٹرنیٹ کے تصور پر مبنی ہے، جس میں بلاک چین اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید تصورات شامل ہیں۔ اس میدان میں جدت اور تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کی وجہ سے کاروباری اداروں کو نہ صرف تکنیکی مہارت بلکہ مارکیٹ کی سمجھ اور بصیرت بھی درکار ہے۔ مصنوعی ذہانت نے جہاں عمل درآمد کو خودکار اور کم لاگت بنایا ہے، وہاں کاروباری حکمت عملی اور فیصلہ سازی کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
مستقبل میں، وہ کمپنیاں اور افراد جو منفرد اور بصیرت پر مبنی حکمت عملی اپنا سکیں گے، مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط کریں گے۔ اس کے برعکس، وہ جو صرف تکنیکی عمل درآمد پر انحصار کریں گے، مقابلے میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کے تناظر میں، کاروباری اداروں اور پیشہ ور افراد کو اپنی مہارتوں کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا تاکہ وہ بدلتے ہوئے مارکیٹ ماحول میں کامیاب رہ سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش