اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے پیش گوئی کی کہ 2028 تک 500 ارب ڈالر کی منتقلی اسٹیبل کوائنز کی جانب ہوگی

زبان کا انتخاب

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، آئندہ چند سالوں میں دنیا بھر میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی رقم بینکوں کی جمع شدہ رقم سے اسٹیبل کوائنز کی جانب منتقل ہو جائے گی۔ یہ تبدیلی خاص طور پر ان ممالک میں نمایاں ہو گی جہاں مالیاتی نظام غیر مستحکم یا زیادہ رسک کا حامل ہے، جیسے مصر، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، ترکی، بھارت اور کینیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس رجحان کا اثر روایتی بینکنگ سیکٹر پر گہرا پڑے گا۔
بینکوں کی جمع شدہ رقم ماضی میں محفوظ سرمایہ کاری اور ادائیگی کے مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ تاہم، اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی مدد سے کی جانے والی آن لائن لین دین اور سرحد پار مالیاتی تبادلے روایتی بینکنگ نظام کے کردار کو کمزور کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بینکوں کی آمدنی کے اہم ذرائع خصوصاً ان خطوں میں جہاں بینکیں زیادہ تر نچلے سود پر جمع شدہ رقم پر انحصار کرتی ہیں، متاثر ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر علاقائی بینک جیسے ہنٹنگٹن بینک شیئرز اور ایم اینڈ ٹی بینک، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ نیٹ انٹرسٹ مارجن سے حاصل کرتے ہیں، کو اس تبدیلی کی وجہ سے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان بینکوں کے لیے کم لاگت پر جمع شدہ رقم کا حصول مشکل ہو سکتا ہے جس سے ان کے مالیاتی خطرات میں اضافہ ہو گا اور قرض دینے کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اگرچہ بلند سود کی شرح کے دوران اس تبدیلی کا فوری اثر محسوس نہیں ہوتا، مگر سود کے فرق میں کمی کے وقت یہ صورتحال بینکنگ بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور ان کا روایتی بینکاری نظام پر اثر مالیاتی دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج ہے، جسے بینکنگ اداروں کو مستقبل میں مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ وہ اپنے ماڈلز کو جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے مطابق ڈھال سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش