جاپان کی XWIN ریسرچ کی ایک تجزیہ کار نے مشاہدہ کیا ہے کہ امریکی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے اجلاس بٹ کوائن کی درمیانی مدت کی مارکیٹ رجحان کو متعین کرنے کے بجائے، زائد پوزیشنز کی صفائی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ NS3.AI کے تاریخی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ FOMC اجلاس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں کوئی مستقل سمت کا تعین نہیں ہوتا بلکہ قلیل مدت میں شدید اتار چڑھاؤ زیادہ تر ان سرمایہ کاروں کی لیکویڈیشن کی وجہ سے سامنے آتا ہے جنہوں نے زیادہ لیوریج استعمال کیا ہوتا ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف کرپٹو کرنسی ہے، مارکیٹ میں اپنی قیمت کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مشہور ہے، اور فیڈرل ریزرو کی مالیاتی پالیسی اور شرح سود کے فیصلے اس کی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم، تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ سیاسی عوامل یا شرح سود کے فیصلوں کے بجائے، بٹ کوائن کی قلیل مدتی حرکت میں بنیادی کردار لیوریج میں کمی، فروخت کے دباؤ کا کم ہونا، اور لیکویڈیٹی کی بحالی کا ہوتا ہے۔
یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ FOMC کے اجلاس کے بعد بازار میں وقتی اتار چڑھاؤ کا مطلب لازمی طور پر طویل مدتی رجحان میں تبدیلی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، یہ اتار چڑھاؤ مارکیٹ میں موجود زائد قرضوں اور خطرے کی سطح کو کم کرنے کے لیے ایک طرح کا ری سیٹ ہوتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ میں یہ عمل سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ زیادہ لیوریج کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہونا قلیل مدت میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
مستقبل میں بھی، بٹ کوائن کی قیمت پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں مالیاتی پالیسیاں، عالمی اقتصادی حالات اور کرپٹو کرنسی کے اندرونی عوامل شامل رہیں گے، لیکن FOMC اجلاس کی قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کو سمجھنا سرمایہ کاروں کے لیے بہتر حکمت عملی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance