ایthereum پر مبنی USDT کی سرگرمی میں اضافہ، بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کے دوران تیزی

زبان کا انتخاب

ایthereum بلاک چین پر مبنی یو ایس ڈی ٹی (Tether) کے فعال ایڈریسز کی تعداد حال ہی میں 30 روزہ اوسط میں 300,000 کی نئی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے، جو آن چین سرگرمی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس اضافے کی وجہ بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے، جو 92,000 ڈالر کی مزاحمتی سطح کو عبور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو دیگر کرپٹو اثاثوں، خاص طور پر USDT پر انحصار کرنے کی طرف مائل کیا ہے۔
USDT ایک مستحکم کوائن ہے جو امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور اسے کرپٹو مارکیٹ میں استحکام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایthereum نیٹ ورک پر USDT کی سرگرمی میں اضافے کا مطلب ہے کہ زیادہ تر فنڈز مرکزی تبادلے کی بجائے ڈیفائی (DeFi) پروٹوکولز اور خود کی ملکیت والی والٹس میں منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اپنی مالی آزادی اور کنٹرول کو ترجیح دے رہے ہیں، اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال میں زیادہ محفوظ اور لچکدار آپشنز کی تلاش میں ہیں۔
ڈیفائی پلیٹ فارمز صارفین کو بغیر کسی درمیانی شخص کے مالیاتی خدمات فراہم کرتے ہیں، جس کی بدولت کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت، قرضے لینا، اور دیگر مالیاتی سرگرمیاں آسان ہو جاتی ہیں۔ USDT کی بڑھتی ہوئی سرگرمی اس شعبے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ثبوت ہے، خاص طور پر جب بٹ کوائن جیسی بڑی کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں استحکام نہ ہو۔
آنے والے دنوں میں، اگر بٹ کوائن اپنی قیمتوں کو مستحکم نہ کر پایا تو USDT اور دیگر مستحکم کوائنز کی مقبولیت اور استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، یہ بھی ممکن ہے کہ مارکیٹ میں عمومی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کار مزید محتاط ہو جائیں اور اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بنانے کی کوشش کریں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش