کومیکس گوداموں میں چاندی کے ذخائر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو اب 415 ملین اونس تک پہنچ چکی ہے، جو مارچ 2025 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ یہ کمی 34 ملین اونس کی ہے اور گزشتہ چند مہینوں میں چاندی کے ذخائر میں مجموعی طور پر 117 ملین اونس یعنی تقریباً 22 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کا مطلب چاندی کی فزیکل طلب میں اضافہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شارٹ سیلرز کو اپنی فیوچرز کنٹریکٹس پوری کرنے کے لیے حقیقی دھات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
شارٹ سیلرز وہ تاجران ہوتے ہیں جو چاندی کو بیچ کر کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جب وہ مطلوبہ مقدار میں چاندی نہیں حاصل کر پاتے تو انہیں فروخت کنندگان کی جانب سے مقرر کردہ زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جو مزید تاجروں کو نقصان سے بچنے کے لیے چاندی خریدنے پر مجبور کرتا ہے، اور یوں مارکیٹ میں مزید سختی آ جاتی ہے۔ اس رجحان کو چاندی کی شارٹ سکویز (short squeeze) کہا جاتا ہے جو اس وقت مکمل شدت سے جاری ہے۔
کومیکس، جو نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج کا حصہ ہے، عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی تجارت کا ایک بڑا مرکز ہے جہاں چاندی، سونا، اور دیگر دھاتیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ چاندی کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ عموماً عالمی معیشت، صنعتی طلب، اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر منحصر ہوتا ہے۔ چاندی کی فزیکل طلب میں اضافہ خاص کر الیکٹرانکس، فوٹوگرافی، اور دیگر صنعتی استعمالات کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کے باعث ذخائر کم ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے جو سرمایہ کاروں اور صنعتوں دونوں کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، شارٹ سکویز کی صورت حال سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے تاجروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔