کریپٹو کرنسی کی دنیا کے کچھ اہم افراد نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے علانیہ دوری اختیار کر لی ہے، جو منیپولیس میں الیکس پریٹی کی ہلاکت اور وائٹ ہاؤس کی اس واقعے پر دی گئی تبصروں کے بعد سامنے آئی ہے۔ الیکس پریٹی کی موت نے ملک میں ایک بار پھر نسلی اور معاشرتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے اور اس کے بعد کریپٹو کرنسی کی کمیونٹی میں بھی اس حوالے سے ردعمل سامنے آیا ہے۔
کریپٹو کرنسی کے حامی، جنہیں عام طور پر سائفرپنکس بھی کہا جاتا ہے، آزادی، پرائیویسی اور حکومتوں کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کرپٹو کرنسیز فرد کی خودمختاری کو فروغ دیتی ہیں اور مالی نظام میں شفافیت اور آزادی لاتی ہیں۔ تاہم، موجودہ واقعے کے بعد ان میں سے کچھ نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر جب حکومت کی جانب سے ایسے واقعات پر غیر سنجیدہ یا متنازعہ ردعمل آیا۔
یہ ردعمل کریپٹو کرنسی کی دنیا میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ شعبہ عمومی طور پر حکومتوں سے خودمختاری اور کم مداخلت کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی مسائل اور سماجی واقعات بھی کریپٹو کرنسی کی کمیونٹی کو متاثر کر سکتے ہیں کیونکہ یہ معاشرتی اور سیاسی دائرہ کار میں گہرائی رکھتے ہیں۔
کریپٹو مارکیٹ میں اس قسم کے سماجی اور سیاسی واقعات کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس وقت، دنیا بھر میں کرپٹو کرنسیز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ایسے واقعات کرپٹو کمیونٹی کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt