اوپن اے آئی نے سائنس کے لیے مفت پلیٹ فارم پریزم متعارف کروا دیا، ماہرین نے پرائیویسی خدشات کا اظہار کیا

زبان کا انتخاب

اوپن اے آئی نے ایک نیا مفت سائنسی پلیٹ فارم “پریزم” شروع کیا ہے جس کا مقصد چیٹ جی پی ٹی کو سائنسی تحریروں میں استعمال کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین جدید سائنسی مواد تیار کر سکیں گے جبکہ کمپنی نے مستقبل میں اس سے حاصل ہونے والے منافع میں حصہ لینے کے امکانات کا اشارہ بھی دیا ہے۔ پریزم کا مقصد تحقیق اور سائنسی مضامین کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ تحقیقی عمل کو آسان اور تیز تر بنایا جا سکے۔
اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک معروف کمپنی ہے جس نے مختلف جدید ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی متعارف کرائے ہیں۔ ان ماڈلز نے صارفین کو مختلف شعبوں میں مدد فراہم کی ہے، خاص طور پر تعلیمی، تحقیقی اور تجارتی مقاصد کے لیے۔ تاہم، ماہرین نے پریزم کے حوالے سے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنسی مواد کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے صارفین کے ذاتی اور تحقیقی ڈیٹا کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے معلومات کی حفاظت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
پریزم کی لانچ کے ساتھ ہی یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سائنسی پلیٹ فارمز کس حد تک محفوظ اور شفاف ہوں گے۔ اس کے علاوہ، ماہرین یہ بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار سے محققین کی تخلیقی صلاحیتوں اور تحقیقی معیار پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
مستقبل میں اوپن اے آئی کی جانب سے اس پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل ہونے والے منافع میں حصہ لینے کی حکمت عملی سے صارفین اور محققین کے لیے نئے مالی اور اخلاقی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب بات تحقیقی مواد کے حقوق اور استعمال کی ہو۔ اس حوالے سے کمپنی کی پالیسیز اور ڈیٹا پروٹیکشن کے اقدامات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے