ایس ای سی کا موقف: ٹوکنائزڈ اثاثے پہلے سیکیورٹیز، پھر ٹیکنالوجی ہیں

زبان کا انتخاب

امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے واضح کیا ہے کہ بلاک چین پر مبنی ریکارڈ کیپنگ نظام سرمایہ کاروں کے حقوق کی حفاظت میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔ اس بیان میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کرپٹو نیٹو مصنوعات کو موجودہ قوانین کے تحت کس طرح فٹ کیا جائے، اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایس ای سی کے اس موقف کا مقصد یہ ہے کہ ٹوکنائزڈ اثاثے، خواہ وہ ڈیجیٹل ہوں یا روایتی شکل میں، بنیادی طور پر سیکیورٹیز کے دائرے میں آتے ہیں اور ان کی قانونی شناخت ٹیکنالوجی کی نوعیت سے پہلے ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بلاک چین یا دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے ریکارڈ رکھنا سرمایہ کاروں کے حقوق اور ان کے تحفظات کو کمزور نہیں کر سکتا۔
کرپٹو کرنسیز اور ٹوکنائزڈ اثاثے مالی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور ان کی قانونی حیثیت پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ایس ای سی کا یہ موقف امریکی مالیاتی قوانین کی روشنی میں ان اثاثوں کی درجہ بندی کو واضح کرنے کی کوشش ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو دھوکہ دہی اور فراڈ سے بچایا جا سکے۔
تاہم، کرپٹو نیٹو مصنوعات کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات باقی ہیں۔ خاص طور پر ایسی ڈیجیٹل مصنوعات جن کا وجود صرف بلاک چین کے اندر ہے، ان کے لئے مخصوص قواعد وضوابط وضع کرنا ابھی باقی ہے۔ اس صورتحال میں، مارکیٹ کے شرکاء اور ریگولیٹرز دونوں کے لئے چیلنجز موجود ہیں کہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے اس شعبے میں توازن قائم کریں۔
مستقبل میں ممکن ہے کہ ایس ای سی مزید وضاحتیں جاری کرے اور کرپٹو اثاثوں کے لئے مخصوص قانونی فریم ورک تیار کرے تاکہ سرمایہ کاروں کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کرپٹو مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ ہو۔ اس سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھے گا اور قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش