فیڈرل ریزرو نے شرح سود پر استحکام برقرار رکھا، ابتدائی کمی کی توقعات ختم اور بٹ کوائن کی قیمت مستحکم

زبان کا انتخاب

جنوری میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل قریب میں شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ مالی منڈیوں میں سود کی شرح کے حوالے سے توقعات میں تیزی سے تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا اثر کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔ خاص طور پر بٹ کوائن کی قیمت میں سست روی دیکھی گئی، جو کہ حالیہ مہینوں میں سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
فیڈرل ریزرو، جو امریکہ کا مرکزی بینک ہے، اپنی پالیسیوں کے ذریعے معیشت میں استحکام اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ گزشتہ عرصے میں مہنگائی میں اضافے کے باعث اس نے شرح سود میں اضافہ کیا تھا تاکہ افراط زر کو قابو میں رکھا جا سکے۔ تاہم، حالیہ فیصلے نے یہ واضح کیا ہے کہ فی الحال شرح سود میں مزید کمی کا امکان کم ہے، جس کی وجہ سے معیشتی اور مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
کرپٹو کرنسیاں، جن میں بٹ کوائن سب سے نمایاں ہے، روایتی مالیاتی پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ شرح سود میں کمی کی توقعات ختم ہونے سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں استحکام یا کمی دیکھی گئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے بھی فیڈرل ریزرو کی پالیسی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مستقبل میں، اگر مہنگائی میں کمی آتی ہے اور اقتصادی حالات مستحکم ہوتے ہیں تو فیڈرل ریزرو ممکنہ طور پر شرح سود میں کمی کر سکتا ہے، جس سے کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں جان آ سکتی ہے۔ تاہم، اس وقت سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی حرکات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال ابھی بھی موجود ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے