ڈالر کی قدر میں کمی، بٹ کوائن مستحکم، آلٹ کوائنز کی قیمتوں میں اضافہ

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں آج ڈالر انڈیکس چار سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جس کے نتیجے میں کئی آلٹ کوائنز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر ہائپ (HYPE)، جے ٹی او (JTO) اور سولانا کے میم کوائن پِپن (PIPPIN) نے مارکیٹ میں زبردست اتار چڑھاؤ کے بعد اچانک رفتار پکڑی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمتیں اس دوران مستحکم رہیں، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی ہے۔
ڈالر کی قدر میں کمی کا اثر عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر پڑتا ہے کیونکہ ڈالر بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیادی کرنسی ہے۔ جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو دیگر کرنسیوں اور سرمایہ کاری کے متبادل جیسے کرپٹو کرنسیز کو فائدہ پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار متنوع اثاثوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اس طرح آلٹ کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی اس رجحان سے تقویت ملتی ہے۔
ہائپ اور جے ٹی او جیسے نئے اور ابھرتے ہوئے پروجیکٹس نے حالیہ مہینوں میں اپنی تکنیکی خصوصیات اور صارفین کی توجہ کی وجہ سے مارکیٹ میں جگہ بنائی ہے۔ سولانا نیٹ ورک پر مبنی پِپن میم کوائن نے خاص طور پر اپنی کمیونٹی کی سرگرمیوں اور محدود فراہمی کی بنا پر قیمت میں اچانک اضافہ دیکھا ہے۔ سولانا ایک تیز اور کم لاگت والا بلاک چین پلیٹ فارم ہے جو مختلف ڈیجیٹل منصوبوں کی میزبانی کرتا ہے، اور اس کا نیٹ ورک صارفین کو بہتر تجربہ فراہم کرتا ہے۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت کرپٹو کرنسیز میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے اور عالمی اقتصادی حالات کی تبدیلی کے ساتھ کرپٹو مارکیٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ڈالر کی کمزوری بین الاقوامی مالیاتی نظام میں دیگر پیچیدگیوں کا بھی اشارہ ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں مستقبل میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
اس وقت بٹ کوائن کی مستحکم قیمت کرپٹو مارکیٹ میں ایک مثبت علامت سمجھی جا رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ آلٹ کوائنز کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں نئے مواقع ابھر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں اور اپنے فیصلے دانشمندی سے کریں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش