برطانیہ میں کریپٹو کرنسی کے شعبے کو بینکوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے، جو ملک کی عالمی سطح پر کریپٹو کرنسی کی قیادت حاصل کرنے کی کوششوں پر سائے ڈال رہی ہے۔ ایک کریپٹو لابی گروپ نے بتایا ہے کہ برطانوی بینکوں کی جانب سے کریپٹو کرنسی کے شعبے کے لیے “بڑھتی ہوئی دشمنی” دیکھی گئی ہے، جس سے صارفین اور کاروباری اداروں کو مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہے اور اسے مرکزی بینک یا حکومتوں کے بغیر ہی لین دین میں استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانیہ نے حالیہ برسوں میں اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے کئی ریگولیٹری اقدامات کیے ہیں تاکہ ملک کو ایک عالمی مالیاتی مرکز بنایا جا سکے جہاں کریپٹو کرنسی کے کاروبار اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہو۔
تاہم، بینکوں کی سخت پالیسیوں اور کریپٹو کرنسی کی لین دین میں رکاوٹوں نے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سازی اور فنڈز کی منتقلی میں مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس سے برطانیہ کی کریپٹو مارکیٹ کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، برطانیہ کی ریگولیٹری ایجنسیز کریپٹو کرنسی کے لیے ایک واضح اور محفوظ فریم ورک بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ صارفین کے تحفظ اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل میں، اگر بینکوں کی جانب سے یہ رویہ برقرار رہا تو برطانیہ کی کریپٹو انڈسٹری کو دیگر ممالک سے پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے جو زیادہ سازگار مالیاتی ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بہتر ریگولیٹری تعاون سے اس شعبے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے تاکہ برطانیہ عالمی سطح پر کریپٹو کرنسی کا ایک اہم مرکز بن سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk