وائٹ ہاؤس کے کرپٹو کرنسی مشیر پیٹرک وِٹ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں مستحکم کرپٹو ٹوکنز، جنہیں “اسٹیبل کوائنز” کہا جاتا ہے، ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں عالمی مالیات کے لیے “گیٹ وے ڈرگ” قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حکومت کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے واضح اور جامع ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرنے کی دوڑ میں ہے تاکہ اس صنعت کو مستحکم اور محفوظ بنایا جا سکے۔
ڈاووس 2026 کا عالمی اقتصادی فورم، جو ہر سال سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ہوتا ہے، اس بار کرپٹو کرنسیاں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس فورم میں دنیا کے مختلف ممالک اور مالیاتی اداروں نے کرپٹو کرنسی کے مستقبل اور ان کی قانونی حیثیت پر تبادلہ خیال کیا، جس سے عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کو عام مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اسٹیبل کوائنز وہ ڈیجیٹل کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قدر عام کرنسیوں یا کسی دیگر مالی اثاثے کے ساتھ منسلک ہوتی ہے، جس سے ان کی قیمت میں اتار چڑھاؤ بہت کم ہوتا ہے۔ یہی خصوصیت انہیں مالیاتی لین دین اور بین الاقوامی تجارت میں زیادہ قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ تاہم، ان کرنسیوں کے حوالے سے قانونی اور مالیاتی نگرانی کے فقدان نے کئی مرتبہ تشویش پیدا کی ہے، جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں ان کی ریگولیشن پر زور دیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن کی کوشش ہے کہ وہ ایسے قوانین مرتب کرے جو نہ صرف صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں بلکہ کرپٹو کرنسی کی صنعت کو بھی ترقی کی راہ دیں۔ اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی ادارے اور مرکزی بینک بھی کرپٹو کرنسی کو اپنی مالیاتی حکمت عملی میں شامل کرنے کے حوالے سے متحرک ہو رہے ہیں، جس سے عالمی کرپٹو مارکیٹ میں استحکام آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اگرچہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں، تاہم اس میں قانونی پیچیدگیاں اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ برسوں میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے مزید ریگولیشنز متوقع ہیں جو اس شعبے کو مزید منظم اور محفوظ بنانے میں مدد دیں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk