امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب اگلے امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ کے انتخاب پر غور کر رہے ہیں تو بلیک راک کے سینئر ایگزیکٹو رِک رِیڈر کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رِیڈر اپنی کریپٹو کرنسیوں کے حق میں مثبت مؤقف کی وجہ سے خاصے پسند کیے جا رہے ہیں، اور وہ خاص طور پر بٹ کوائن کو ایک نئے طرز کے قیمتی اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں، جسے انہوں نے “نیا سونا” قرار دیا ہے۔
بٹ کوائن، جو ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، گزشتہ چند برسوں میں سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہے۔ روایتی مالی نظام میں تبدیلی کی خواہش رکھنے والے افراد اور ادارے اسے ایک محفوظ پناہ گاہ یا ہجرت کے طور پر دیکھتے ہیں، خاص طور پر جب عالمی معیشت میں عدم استحکام یا افراط زر کا خدشہ ہوتا ہے۔
ریک رِیڈر کا تعلق بلیک راک سے ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں میں سے ایک ہے، اور ان کی رائے کا اثر مالیاتی مارکیٹوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر وہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے طور پر منتخب ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ امریکی مرکزی بینک کی پالیسیوں میں کریپٹو کرنسی کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہو، جو اس مارکیٹ کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
فیڈرل ریزرو کی قیادت کا انتخاب عالمی مالیات کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ ادارہ امریکہ کی مانیٹری پالیسی کا تعین کرتا ہے، جو عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے حکومتی رویہ بدلنے سے سرمایہ کاری کے رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور ریگولیٹری خطرات بھی موجود ہیں۔
مجموعی طور پر، رِک رِیڈر کی ممکنہ تقرری امریکی مالیاتی پالیسی اور کرپٹو کرنسیوں کی دنیا میں ایک نئی سمت کی علامت ہو سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں اور مالیاتی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk