سامورائی خط نمبر ۳: اندرونی تحریریں

زبان کا انتخاب

سامورائی والیٹ کے ڈویلپرز کی جانب سے امریکی وفاقی جیل FPC مورگین ٹاؤن کے حالات پر ایک تازہ خط میں قیدی کی روزمرہ زندگی اور خوراک کی صورتحال کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس خط میں بتایا گیا ہے کہ جیل میں قیدیوں کی روزمرہ زندگی تین بنیادی کھانوں کے گرد گھومتی ہے اور خوراک کی قلت، معیار کی خرابی اور مقدار میں فرق ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ بن چکا ہے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ صبح ۶ بجے خوراک کی پہلی کال ہوتی ہے جسے “مین لائن” کہا جاتا ہے، مگر زیادہ تر قیدی اس وقت چاؤ ہال جانا پسند نہیں کرتے کیونکہ ناشتے کا معیار بہت خراب ہوتا ہے۔ ناشتے میں اکثر “سپائس کیک” دیا جاتا ہے جو ہر روز دہرانے کی وجہ سے بوریت کا باعث بنتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں اکثر سرد اور کم معیار کے کھانے ملتے ہیں جن میں کبھی کبھار چکن فرائیڈ رائس جیسا کچھ مہیا ہوتا ہے، لیکن اکثر وقت ایک چھوٹا سا ہیمبرگر جو بوسیدہ ہوتا ہے، دیا جاتا ہے۔ رات کا کھانا بھی غیر متوقع ہوتا ہے اور اس میں خوراک کی مقدار اور معیار میں فرق پایا جاتا ہے۔
قیدیوں کی خوراک کی کمی اور اس کی ناقص نوعیت صحت کے مسائل کا باعث بنتی ہے، جس کی وجہ سے کئی قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، قیدی بعض اوقات چاؤ ہال کے کھانے سے پرہیز کرتے ہوئے خود سے کم مقدار میں محفوظ خوراک خرید کر کھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جیل میں دستیاب سہولیات محدود ہونے کی وجہ سے یہ بھی آسان نہیں ہوتا۔
خط کے مصنف نے قیدیوں کی غذائی ضروریات کو بہتر بنانے کے لیے تازہ پھل، سبزیاں، زیادہ پروٹین، اور خود کھانا پکانے کے لیے بہتر سہولیات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جیل میں خوراک کی فراہمی اور معیار پر نظر ثانی کی جانی چاہیے تاکہ قیدیوں کی صحت بہتر ہو سکے۔
یہ خط قیدیوں کی زندگی کے ایک اہم پہلو کی عکاسی کرتا ہے جس پر خارجہ دنیا کم توجہ دیتی ہے، اور اسے بہتر بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ سامورائی والیٹ کے ڈویلپرز کی رہائی کے لیے ایک پٹیشن بھی جاری ہے جس میں عوام کی حمایت کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش