ٹرمپ کی صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر ایس ای سی کی کرپٹو کرنسی کیسز میں حکمت عملی میں تبدیلی

زبان کا انتخاب

ٹرمپ کی دوسری صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے کرپٹو کرنسی کے بڑے کیسز سے پیچھے ہٹنے اور اپنی ترجیحات میں تبدیلی کرنے کا رجحان دکھایا ہے۔ اس دوران ایس ای سی نے کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی میں کچھ حد تک نرمی اختیار کی ہے، جس سے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی کے امکانات پر اثر پڑا ہے۔
ایس ای سی کی یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب کرپٹو کرنسیز نے مالیاتی دنیا میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے اور مختلف کمپنیوں نے ان ورچوئل اثاثوں کے ذریعے سرمایہ کاری اور فنڈ ریزنگ کے نئے طریقے اپنائے ہیں۔ پچھلے برسوں میں ایس ای سی نے مختلف کرپٹو کرنسی اور بلاک چین منصوبوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی تھیں، جن میں کچھ بڑے کیسز شامل تھے جنہوں نے مارکیٹ میں کھلبلی مچا دی تھی۔
تاہم، ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکی مالیاتی ریگولیٹر نے اپنی توجہ دیگر مالیاتی امور کی جانب منتقل کی ہے، جس سے کرپٹو کرنسی کے خلاف کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرپٹو انڈسٹری کو کچھ ریلیف ملا ہے اور مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات کی کمی سے ممکنہ خطرات بھی موجود ہیں۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی نوعیت اور اس کی غیر مستحکم قیمتوں کے پیش نظر، مالیاتی حکام کی جانب سے مناسب نگرانی ضروری ہے تاکہ فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات پر قابو پایا جا سکے۔ مستقبل میں ایس ای سی کی کارکردگی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ کس حد تک کرپٹو کرنسیز کو مالیاتی قواعد و ضوابط میں لانے اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔
اس صورتحال میں سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کرپٹو کرنسی کے ممکنہ فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات کو بھی سمجھ سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے