تیزی سے بڑھتا ہوا اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا معاون خودکار نظام اور سلامتی کی حدوں کو پرکھ رہا ہے

زبان کا انتخاب

ایک اوپن سورس مصنوعی ذہانت (AI) کا معاون تیزی سے ڈیولپرز کے درمیان مقبول ہو رہا ہے، جس سے خودکار نظام کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس معاون کی وسیع پیمانے پر قبولیت کے باوجود حفاظتی اقدامات اور سلامتی کے انتظامات ابھی تک اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔ اس صورتحال نے خودکار نظام کے استعمال میں ممکنہ خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
اوپن سورس AI معاون ایسے سافٹ ویئر ہوتے ہیں جنہیں کوئی بھی شخص یا ادارہ اپنی ضروریات کے مطابق استعمال اور تبدیل کر سکتا ہے، جس سے یہ عام تجارتی مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور تیز تر ترقی کرنے والے بن جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں، کاروباری ادارے اور ڈیولپرز ایسے اوزاروں کی مدد سے خودکار کاموں کو انجام دے کر وقت اور وسائل کی بچت کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سلامتی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔
یہ معاون خودکار طریقے سے مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے انسانی مداخلت کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، لیکن حفاظتی تدابیر کی کمی اس کے غلط استعمال یا سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے AI سسٹمز کی حفاظت کے لیے مضبوط نگرانی اور حفاظتی پروٹوکولز کی ضرورت ہے تاکہ صارفین اور نظام دونوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
آنے والے وقت میں، اس قسم کے اوپن سورس AI معاون کی ترقی اور استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں خودکار نظاموں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ مگر اس کے ساتھ ہی، سلامتی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے موثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ تکنیکی ترقی انسانی مفادات اور تحفظ کے ساتھ متوازن رہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے