ٹک ٹاک پر سیاسی مواد کو دبانے کے الزامات کے بعد ایک کم معروف آسٹریلوی سوشل میڈیا ایپ، اپسکرولڈ، اچانک صارفین میں مقبول ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے اپسکرولڈ کی سروسز پر غیر متوقع دباؤ ڈال دیا ہے اور اس کے سرورز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ صارفین نے ٹک ٹاک پر سیاسی اور دیگر حساس مواد کو محدود کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کے نتیجے میں وہ متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں اپسکرولڈ کی طرف راغب ہو گئے ہیں۔
یہ ایپ اب مفت ایپس کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہو چکی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاس ہے۔ اپسکرولڈ ایک سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو آزادانہ اظہار رائے اور متنوع مواد شیئر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کی یہ خصوصیت اسے ان صارفین کے لئے پرکشش بناتی ہے جو بڑے پلیٹ فارمز پر سنسرشپ یا مواد کی پابندیوں سے پریشان ہیں۔
ٹک ٹاک، جو کہ ایک عالمی سطح پر مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ہے، حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں سیاسی اور ثقافتی تنازعات کا مرکز بنی رہی ہے۔ متعدد حکومتوں اور صارفین نے اس پر معلومات کی سنسرشپ اور پرائیویسی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس پس منظر میں، اپسکرولڈ جیسی ایپس متبادل ذرائع کے طور پر ابھر رہی ہیں، جہاں صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔
اگرچہ اپسکرولڈ کی مقبولیت میں اضافہ اس کے لیے خوش آئند ہے، لیکن سرورز پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے اس کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، جیسے جیسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا، پلیٹ فارم کو تکنیکی اور سیکورٹی چیلنجز کا سامنا بھی رہ سکتا ہے۔ مستقبل میں، اپسکرولڈ کو اپنی سروس کی معیار کو برقرار رکھنے اور صارفین کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے بہتر انفراسٹرکچر اور موثر انتظامات کی ضرورت ہوگی۔
یہ واقعہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ صارفین متبادل اور زیادہ آزاد پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہیں، خاص طور پر جب بڑے پلیٹ فارمز پر سنسرشپ اور مواد کی پابندیاں بڑھتی جا رہی ہوں۔ اس رجحان کو سوشل میڈیا انڈسٹری میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt