بٹ کوائن کی قیمت اس وقت ایک محدود حد میں مستحکم ہے جب کہ جاپانی ین کی قیمت میں نیو یارک فیڈ کی شرح سود کے حوالے سے مداخلت کے باعث اچانک اضافہ ہوا ہے۔ اس اقدام نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں کیری ٹریڈ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے اور سرمایہ کاروں کو سونا خریدنے کی طرف مائل کر دیا ہے۔
کیری ٹریڈ ایک مالیاتی حکمت عملی ہے جس میں سرمایہ کار کم شرح سود والے ممالک سے قرض لے کر زیادہ شرح سود والے ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ نیو یارک فیڈ کی جانب سے شرح سود کے حوالے سے غیر متوقع اقدامات نے اس حکمت عملی کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کاروں نے اپنی پوزیشنز بند کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس عمل نے ین کی قیمت میں تیزی سے اضافہ اور سونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بٹ کوائن، جو ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے اور عالمی مالیاتی مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، اس کی قیمت اس غیر یقینی صورتحال کے دوران خاصی مستحکم رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بٹ کوائن کو اکثر روایتی مالیاتی اثاثوں کے متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کرپٹوکرنسی مارکیٹ بھی عالمی مالیاتی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔
نیو یارک فیڈ کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں کی توقعات کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔ اگر شرح سود میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے تو یہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے، جس کا بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا۔
مستقبل میں، سرمایہ کاروں کو عالمی مالیاتی پالیسیوں اور مرکزی بینکوں کے اقدامات پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ بہتر اندازہ لگا سکیں کہ یہ حالات کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس دوران، بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام ایک اہم عنصر رہے گا جسے مارکیٹ کے مختلف عوامل کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt