امریکی مارشلز نے حکومت کے ٹھیکیدار کے بیٹے پر 40 ملین ڈالر کی ضبط شدہ کرپٹو کرنسی چوری کے الزام کی تحقیقات شروع کر دیں

زبان کا انتخاب

امریکہ میں وفاقی حکام نے ایک ایسے کیس کی تحقیقات شروع کی ہیں جس میں حکومت کے ٹھیکیدار کے بیٹے پر الزام ہے کہ اس نے امریکی حکومت کی ضبط کردہ کرپٹو کرنسی کی مالیت تقریباً 40 ملین ڈالر چوری کی ہے۔ ایک خطرناک ہیکر کی جانب سے متعدد ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی دکھانے والا ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر امریکہ کی حکومت کے ضبط شدہ ایڈریسز سے یہ کرپٹو کرنسی نکلوانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ کرپٹو کرنسی امریکی حکومتی اداروں کی جانب سے مختلف قانونی کارروائیوں کے دوران ضبط کی گئی تھی، جس کا مقصد غیر قانونی آمدنی کو روکنا اور اسے قانونی طریقے سے ضبط کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، اس واردات نے کرپٹو کرنسی کی سیکورٹی اور حکومتی ضبطی کے نظام پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات میں معروف کرپٹو تجزیہ کار “زیک ایکس بی ٹی” نے اہم کردار ادا کیا اور چوری شدہ کرپٹو کرنسی کے ذرائع کو ٹریس کیا۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اس قسم کے واقعات کی وجہ سے اعتماد متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ کرپٹو کرنسی کا بنیادی اصول شفافیت اور سیکورٹی پر مبنی ہے۔ حکومت کی جانب سے ضبط شدہ کرپٹو کرنسی کا غلط استعمال مالی جرائم اور منی لانڈرنگ جیسے مسائل کو بڑھا سکتا ہے، جس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی ضرورت ہے۔
آئندہ چند دنوں میں حکام کی جانب سے اس کیس میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس معاملے میں قانونی چارہ جوئی کس حد تک جائے گی۔ اس واقعے نے کرپٹو کرنسی کی سیکورٹی اور حکومتی کنٹرول کے حوالے سے سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی بڑی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش