میکرو معاشی خدشات اثیریم کی ترقی کو چھپا رہے ہیں، شارپ لنک کے سی ای او کا بیان

زبان کا انتخاب

شارپ لنک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جوزف چالوم نے کہا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث اثیریم کی بنیاد پر ٹوکنائزیشن میں بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی منتقلی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ میں عمومی خوف و ہراس پایا جاتا ہے، تاہم اثیریم بلاک چین پر مبنی مختلف مالیاتی اور غیر مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
اثیریم ایک اوپن سورس بلاک چین پلیٹ فارم ہے جو اسمارٹ کنٹریکٹس کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اسے ڈیجیٹل کرنسی کے علاوہ دیگر کئی قسم کی ڈیجیٹل اثاثوں کی تخلیق اور تبادلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں میں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں نے اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر مبنی مختلف پروجیکٹس میں سرمایہ کاری شروع کی ہے۔ ٹوکنائزیشن کے ذریعے روایتی اثاثے جیسے کہ جائیداد، فنون لطیفہ، اور کمپنیاں ڈیجیٹل ٹوکن میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، جو مارکیٹ میں شفافیت اور لچک فراہم کرتی ہیں۔
شارپ لنک ایک ایسی کمپنی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مالیاتی خدمات فراہم کرتی ہے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے پلیٹ فارمز تیار کرتی ہے۔ جوزف چالوم کے مطابق، اس قسم کی تبدیلیاں مالیاتی دنیا میں ایک بنیادی انقلاب کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جسے موجودہ معاشی حالات کی بنا پر اکثر منظر سے اوجھل رکھا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، جیسے کہ مہنگائی، سود کی شرحوں میں اضافہ، اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مالیاتی مارکیٹوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے، جس سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔ تاہم، اثیریم اور اس کی ٹوکنائزیشن کی تکنیکیں ان چیلنجز کے باوجود مالیاتی ڈیجیٹلائزیشن میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں مالیاتی شعبے میں مزید شفافیت، تیز تر لین دین، اور غیر مرکزی نظام کی طرف منتقلی ممکن ہو سکتی ہے۔
تاہم، بلاک چین ٹیکنالوجی اور کرپٹوکرنسیز میں سرمایہ کاری کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں، جن میں ریگولیٹری تبدیلیاں، سیکیورٹی مسائل اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط انداز میں فیصلے کرنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنی چاہیے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش