عالمی مالیاتی منڈی میں سنہری سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے لیکن ایک قابل توجہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 98 فیصد سرمایہ کاروں کے پاس اصل سونے کے زرہ نہیں ہوتے بلکہ وہ “کاغذی سونا” کے ذریعے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مالیاتی کمپنی اور کریپٹو کرنسی سے منسلک ادارہ اوریلیون نے تیتھر گولڈ (Tether Gold – XAUT) کی جانب رخ کیا ہے، جو ایک بلاک چین پر مبنی ٹوکن ہے اور اس کے پیچھے حقیقی سونا موجود ہوتا ہے۔
کاغذی سونا دراصل ایسے مالی آلات اور سرٹیفیکیٹس کو کہتے ہیں جو سونے کی قیمت کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن اس کے حامل کے پاس اصل سونا نہیں ہوتا۔ اس نظام میں سرمایہ کار سونے کی قیمت میں اضافہ یا کمی سے فائدہ یا نقصان اٹھاتے ہیں، لیکن اگر مارکیٹ میں کوئی عدم استحکام یا مالی بحران آیا تو سرمایہ کاروں کو اصل سونا حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اوریلیون نے بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے بیکڈ سونے کے ٹوکن پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ سرمایہ کاری میں شفافیت اور حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔
تیتھر گولڈ (XAUT) ایک ڈیجیٹل اثاثہ ہے جس کی قیمت ہر وقت اصل سونے کی قیمت کے مطابق ہوتی ہے اور ہر ٹوکن ایک مخصوص مقدار میں فزیکل گولڈ کی ضمانت دیتا ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کی بدولت اس ٹوکن کی ملکیت کا ریکارڈ شفاف اور محفوظ رہتا ہے، جو سرمایہ کاروں کو حقیقی سونے کی ملکیت کا یقین دلاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس نظام سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بھی بڑھتی ہے اور سرمایہ کاری کے عمل میں آسانی آتی ہے۔
کریپٹو کرنسی اور بلاک چین کی دنیا میں اس طرح کے اثاثے سرمایہ کاروں کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ سونے میں سرمایہ کاری کریں مگر روایتی طریقوں کی مشکلات اور خطرات سے بچ سکیں۔ تاہم، اس میں بھی تکنیکی پیچیدگیاں اور مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کا خطرہ موجود رہتا ہے، جس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
یہ تبدیلی سنہری سرمایہ کاری کے شعبے میں ایک اہم قدم تصور کی جارہی ہے کیونکہ یہ سرمایہ کاروں کو اصلی سونے کی ملکیت کے قریب لے آتی ہے اور مالیاتی منڈیوں میں شفافیت کو فروغ دیتی ہے۔ آئندہ دور میں بلاک چین پر مبنی ایسے ٹوکنز سرمایہ کاری کے روایتی طریقوں کو مزید تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk