بٹ کوائن اور دیگر اہم کرپٹو کرنسیاں اتوار کو کمزور ہو گئیں کیونکہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے اس سال کے پہلے شرح سود کے فیصلے سے قبل محتاط رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ اس دوران، بڑے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے سات اہم کمپنیوں کے مالی نتائج کا اعلان بھی متوقع ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں عدم یقینی کی فضا قائم ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، نے حالیہ دنوں میں اپنی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین کے مطابق، امریکی حکومت کی ممکنہ بندش اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں تبدیلی کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ حکومتی بندش کا مطلب ہے کہ سرکاری ادارے عارضی طور پر اپنی خدمات معطل کر سکتے ہیں، جس سے معیشت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
فیڈرل ریزرو، جو امریکی مالیاتی پالیسی کا تعین کرتا ہے، اس ہفتے پہلی بار اس سال شرح سود کا فیصلہ کرے گا۔ شرح سود میں اضافہ یا کمی دونوں کے مختلف اثرات ہوتے ہیں: اضافہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے لیکن قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتا ہے، جبکہ کمی سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتی ہے لیکن مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس فیصلے کا عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر گہرا اثر پڑتا ہے اور کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اتار چڑھاؤ اکثر عالمی اقتصادی حالات، حکومتی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے جذبات کے تحت ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، سرمایہ کار محتاط ہیں اور بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں فیڈرل ریزرو کے فیصلے اور امریکی کمپنیوں کے مالی نتائج مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔
اگرچہ بٹ کوائن کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کی نوعیت کے باعث قیمتیں تیزی سے بدل سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کے رجحانات کو قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk