سی زی نے قید، معافی اور کرپٹو کرنسی کے مستقبل پر خیالات کا اظہار کیا

زبان کا انتخاب

بائننس کے شریک بانی اور سابق سی ای او چانگ پینگ ژاؤ (سی زی) نے ایک انٹرویو میں اپنی قید اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معافی کے حوالے سے کھلے دل سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں منی لانڈرنگ کے الزامات پر سزا ہوئی اور بعد میں انہیں صدر کی جانب سے معاف کیا گیا۔ سی زی نے اپنی قید کے دوران سخت حالات اور نفسیاتی دباؤ کا ذکر کیا، جہاں ان کا پہلا قیدی ساتھی ایک سنگین جرم کرنے والا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں ابتدا میں امید تھی کہ انہیں گھر پر قید دی جائے گی، لیکن سزا کی نوعیت مختلف تھی۔ انہوں نے اپنی جذباتی مضبوطی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت سے گزر جائیں گے۔
سی زی نے واضح کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے کبھی ذاتی ملاقات نہیں کی اور معافی کے حوالے سے کوئی خاندانی یا کاروباری تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ خاندان کرپٹو کرنسی میں دلچسپی رکھتا ہے اور ان کی انتظامیہ نے کرپٹو کو حمایت دی، جس سے صنعت کو فائدہ پہنچا ہے۔
معافی کے بعد سی زی نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے بائننس اسمارٹ چین کے بانیوں کی رہنمائی، ایزی لیبز کے ذریعے سرمایہ کاری، اور ایک تعلیمی پلیٹ فارم “گیگل اکیڈمی” چلانے میں مشغول ہیں۔ وہ مختلف حکومتوں کو کرپٹو قوانین، ٹوکنائزیشن اور اسٹیبل کوائن کی تیاری پر مشورے دے رہے ہیں۔ سی زی نے کہا کہ وہ اب کرپٹو کرنسیوں کی ٹریڈنگ نہیں کرتے بلکہ بٹ کوائن اور بائننس کوائن کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ 2026 تک بٹ کوائن کی قیمت میں ایک ممکنہ “سپر سائیکل” آئے گا جو روایتی چار سالہ چکر کو بدل سکتا ہے، جس کی وجہ امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف سے کرپٹو کی حمایت ہے۔
انہوں نے بائننس کے ابتدائی دنوں میں امریکی صارفین کو پلیٹ فارم پر بغیر مکمل قانونی تیاری کے رسائی دینے کی غلطی تسلیم کی، جس نے بعد میں بینکنگ سیکریسی ایکٹ کی خلاف ورزی کی صورت اختیار کی۔ سی زی نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملے تو وہ یہ قدم نہ اٹھاتے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں بائننس ایک بڑی اور معروف کمپنی ہے جو ڈیجیٹل اثاثوں کے لین دین کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس کے بانی کی ذاتی مشکلات اور ان کے خیالات کرپٹو کی ترقی اور اس کے مستقبل کے حوالے سے اہم بصیرت فراہم کرتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے