2026 کے عالمی اقتصادی فورم میں، جو ڈاؤوس میں منعقد ہوا، روایتی مالیاتی دنیا اور کرپٹو کرنسی سیکٹر کے رہنماؤں نے ٹوکینائزیشن کے ممکنہ اثرات پر گہری گفتگو کی۔ اس فورم میں ماہرین نے اس ترقی پذیر رجحان کے مثبت پہلوؤں اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ خاص طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ٹوکینائزیشن سرمایہ کاری کی رسائی کو وسیع کرنے، مالیاتی شمولیت بڑھانے اور مالیاتی لین دین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا وعدہ رکھتی ہے۔
ٹوکینائزیشن کا مطلب ہے کہ اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز کی صورت میں تبدیل کرنا، جس سے ان کی خرید و فروخت اور لین دین آسان اور شفاف ہو جاتا ہے۔ یہ تصور روایتی مالیاتی نظام میں ایک اہم انقلاب لا سکتا ہے، کیونکہ یہ سرمایہ کاروں کو چھوٹے پیمانے پر بھی حصص خریدنے اور مختلف اقسام کے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، فورم میں شرکاء نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ مالیاتی literacy کی کمی اور ریاستی کنٹرول کے مسائل اس عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ 2028 تک مکمل ٹوکینائزیشن کا تصور قدرے پرامید ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی کہا گیا کہ زیادہ تر اثاثوں کی ڈیجیٹل سیٹلمنٹ ایک ناگزیر حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ اس سے مالیاتی نظام میں شفافیت، تیزی اور کم لاگت کی خدمات ممکن ہوں گی، لیکن اس کے لیے حکومتی پالیسیوں، ریگولیٹری فریم ورک اور صارفین کی تعلیم میں بہتری ضروری ہے۔
ٹوکینائزیشن کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ ہی اس کی نگرانی اور تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر بھی لازمی ہیں تاکہ مالیاتی استحکام اور صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس فورم نے مالیاتی انقلاب کے اس مرحلے پر سنجیدہ اور متوازن نقطہ نظر اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance