کیا اسٹیبل کوائنز امریکی ڈالر سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں؟

زبان کا انتخاب

مارکیٹ میں تقریباً تمام اسٹیبل کوائنز امریکی ڈالر کی قیمت سے منسلک ہیں، جس کی وجہ سے انہیں امریکی کرنسی کی مضبوط گرفت سے آزاد کرنا ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ تجربات میں مختلف کرنسیوں اور اشیائے تجارت کے مجموعے استعمال کر کے اس انحصار کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر اس میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں رہا۔
اسٹیبل کوائنز وہ ڈیجیٹل کرنسیاں ہیں جن کا مقصد قیمت میں استحکام فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ کرپٹو کرنسیوں کی عمومی اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔ عام طور پر، یہ کوائنز امریکی ڈالر کے ایک ٹوکن کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، جس سے صارفین کو کرپٹو مارکیٹ میں کم خطرے کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کی وجہ سے، امریکی ڈالر عالمی مالیاتی نظام میں اپنی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہے، اور اسٹیبل کوائنز بھی اسی ڈالر کے سہارے چل رہے ہیں۔
کچھ کمپنیوں اور ڈیجیٹل کرنسی پروجیکٹس نے ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں یا اشیائے تجارت جیسے سونا، تیل اور دیگر کموڈیٹیز کے ساتھ منسلک اسٹیبل کوائنز متعارف کروانے کی کوشش کی ہے، تاکہ ایک متنوع مالیاتی پلیٹ فارم بنایا جا سکے جو امریکی کرنسی پر کم انحصار کرے۔ تاہم، ان کوششوں کو مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکی، اور صارفین کی اکثریت اب بھی ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز کو ترجیح دیتی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی جگہ بدلنا آسان نہیں، خاص طور پر جب بات ڈیجیٹل کرنسیوں کی ہو۔ مستقبل میں اگر کوئی متبادل مالیاتی نظام تشکیل پاتا ہے تو وہ عالمی معیشت اور کرپٹو مارکیٹ کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے وسیع پیمانے پر اعتماد اور قبولیت کی ضرورت ہوگی۔
اس وقت مارکیٹ میں اسٹیبل کوائنز کا ڈالر سے گہرا تعلق برقرار ہے، اور امریکی کرنسی کی مضبوطی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسٹیبل کوائنز کی آزادی کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے لیے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش