اگورا کے سی ای او نِک وین ایک نے صارفین کے درمیان اسٹےبل کوائنز کے استعمال میں اضافہ دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کرپٹو کرنسیز اب صرف ڈیجیٹل مارکیٹس تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ بین الاقوامی کاروباری ادائیگیوں میں بھی ان کا کردار بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق، خاص طور پر کراس بارڈر پیمنٹس کے میدان میں اسٹےبل کوائنز کا استعمال بڑھ کر روایتی مالیاتی نظام کا متبادل بن سکتا ہے۔
اسٹےبل کوائنز وہ ڈیجیٹل کرنسیاں ہیں جن کی قیمت کو کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر، یورو یا سونا سے منسلک کیا جاتا ہے تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے اسٹےبل کوائنز عالمی کاروبار میں تیز اور کم قیمت لین دین کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔ آج کل عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اسٹےبل کوائنز کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ روایتی بینکنگ سسٹمز کی پیچیدگی اور ٹرانزیکشن فیسز میں کمی کی ضرورت ہے۔
اگورا ایک معروف فنانشل ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کی مدد سے ادائیگی کے نظام کو آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس کمپنی کے سی ای او کا ماننا ہے کہ جلد ہی بڑے کاروباری ادارے بھی اپنے بین الاقوامی لین دین کے لیے اسٹےبل کوائنز کو ترجیح دیں گے، کیونکہ یہ تیز، شفاف اور کم خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس تبدیلی سے عالمی مالیاتی نظام میں شمولیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مالیاتی خدمات کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔
مستقبل میں، اسٹےبل کوائنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ مالیاتی ریگولیٹری حکام کی توجہ بھی بڑھ سکتی ہے تاکہ ان کرنسیز کے استعمال کو منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔ تاہم، کاروباری دنیا میں اس ٹیکنالوجی کی مقبولیت سے عالمی مالیاتی نظام میں انقلاب کی توقع کی جا رہی ہے جو تجارت کو مزید آسان اور تیز تر بنائے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk