اسٹیبل کوائنز کے ذریعے پچھلے سال 35 ٹریلین ڈالر کی ٹرانزیکشنز، صرف 1 فیصد حقیقی ادائیگیوں کے لیے

زبان کا انتخاب

پچھلے سال اسٹیبل کوائنز کے ذریعے تقریباً 35 ٹریلین ڈالر کی مالیاتی لین دین ہوئی، تاہم ان میں سے صرف ایک فیصد کا تعلق حقیقی دنیا کی ادائیگیوں جیسے کہ رقوم کی منتقلی اور تنخواہوں کی ادائیگی سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بڑے حجم میں سے بیشتر ٹریڈنگ، سرمایہ کاری یا دیگر مالیاتی سرگرمیوں پر مشتمل تھا نہ کہ روزمرہ کی مالیاتی ضروریات پر۔
اسٹیبل کوائنز ایسی کرپٹو کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قدر عام طور پر کسی مستحکم اثاثے، جیسے امریکی ڈالر، سے منسلک ہوتی ہے تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کم سے کم ہو۔ یہ کرپٹو کرنسیز خاص طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ادائیگیوں اور مالیاتی تبادلوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں کیونکہ یہ تیزی سے اور کم لاگت پر ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، حقیقی دنیا کی ادائیگیوں میں ان کا استعمال ابھی محدود ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ حجم بہت بڑا ہے، لیکن یہ زیادہ تر ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹ کے اندر ہی گردش میں ہے اور اسے عام صارفین کی روزمرہ کی مالی ضروریات پوری کرنے میں ابھی اتنا مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جتنا کہ توقع کی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قانونی اور ریگولیٹری چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جو اس سیکٹر کی ترقی کو محدود کرتے ہیں۔
مستقبل میں اسٹیبل کوائنز کی حقیقی دنیا کی ادائیگیوں میں بڑھتی ہوئی شمولیت ممکن ہے، بشرطیکہ ریگولیٹری فریم ورک واضح ہو اور صارفین میں اعتماد بڑھے۔ اس کے علاوہ، اگر مالیاتی ادارے اور حکومتیں اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں پیش پیش رہیں تو یہ ڈیجیٹل معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مارکیٹ کی موجودہ حدود اور خطرات کو سمجھیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش