کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ 91,000 ڈالر کی سطح کو عبور کر گئی ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب مالی ماہرین اور سرمایہ کاروں نے جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کے امکانات کو محسوس کیا۔ اس مداخلت کا مقصد ملکی کرنسی کی قدر مستحکم کرنا اور مالیاتی مارکیٹ میں توازن قائم کرنا سمجھا جا رہا ہے۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے معروف اور بڑی کریپٹو کرنسی ہے جس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جو کہ عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔ بینک آف جاپان کی ممکنہ مداخلت نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے اور اس نے بٹ کوائن کی قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔
اسی دوران، قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں بھی حرارت دیکھی گئی ہے۔ چاندی کی قیمت ایک اونس کی بنیاد پر 100 ڈالر کی حد کو عبور کر کے 101 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سونا بھی 5,000 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے۔ سونا اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مالیاتی عدم استحکام اور سرمایہ کاری کے محفوظ ذرائع کی تلاش کی وجہ سے ہوتا ہے۔
آئندہ کے لیے مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بینک آف جاپان نے اپنی مداخلت جاری رکھی تو بٹ کوائن اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے، تاہم عالمی معاشی حالات اور دیگر مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلیاں قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ممکنہ خطرات سے بچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk