کیون اولیری کا کہنا ہے کہ اب توانائی بٹ کوائن سے زیادہ قیمتی ہے

زبان کا انتخاب

مشہور ٹی وی شو “شارک ٹینک” کے سرمایہ کار کیون اولیری نے اپنی کرپٹو کرنسی کی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب توانائی کی پیداوار اصل قیمتی اثاثہ بن چکی ہے، جو بٹ کوائن سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اولیری کا نقطہ نظر اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے توانائی کی دستیابی اور اس کا مؤثر انتظام کس قدر اہم ہو چکا ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں بے پناہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو نئے مواقع اور چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔ توانائی، خاص طور پر بجلی کی پیداوار، کرپٹو مائننگ کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور اس کی لاگت اور دستیابی مائننگ کے منافع کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ اس تناظر میں، اولیری نے اپنی توجہ کرپٹو ٹوکنز سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی طرف منتقل کر دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو زیادہ دیرپا اور مستحکم سمجھتے ہیں۔
توانائی کی اہمیت کو بڑھتے ہوئے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے، جہاں صاف توانائی کے ذرائع اور خود کفیل توانائی کا حصول ملکوں کی ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے نہ صرف کرپٹو کرنسیز کی مائننگ کو فائدہ پہنچے گا بلکہ یہ ایک وسیع تر اقتصادی اور ماحولیاتی تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
اگرچہ کرپٹو کرنسیز کی مقبولیت کم نہیں ہوئی، لیکن توانائی کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مستقبل میں توانائی کی پیداوار اور اس کی منظم تقسیم سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ مستحکم اور منافع بخش شعبہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ، کرپٹو مارکیٹ میں بھی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جہاں توانائی کے ڈھانچے کی مضبوطی کرپٹو کرنسی کی کامیابی کے لیے لازمی عنصر بن جائے گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے