ایپوک وینچرز، جو بٹ کوائن انفراسٹرکچر میں مہارت رکھتی ہے، نے 2026 کے لیے اپنی دوسری سالانہ رپورٹ میں بٹ کوائن کی قیمت 150 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے دوران بٹ کوائن کی کارکردگی معتدل رہی لیکن مستقبل میں اس کی ترقی مضبوط ہوگی۔ اس پیش رفت کی وجہ ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹ سے علیحدگی کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بٹ کوائن کا روایتی چار سالہ ہالوِنگ سائیکل ختم ہو چکا ہے اور اب کرپٹو مارکیٹ میں کم اتار چڑھاؤ کے ساتھ آہستہ لیکن مستحکم ترقی کا دور شروع ہو چکا ہے۔ 2025 میں بٹ کوائن کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی، لیکن چار سالہ مدت میں اس میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سونے کی قیمتوں میں اضافہ بٹ کوائن کی قدر کو بھی بڑھا سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کار سونے سے بٹ کوائن کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بٹ کوائن کے لیے دیگر امکانات بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں مختلف ممالک کی اپنانے کی رفتار، بڑے مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری، اور عوامی کمپنیوں کے بٹ کوائن کو اپنی ٹریژری میں شامل کرنے کا رجحان شامل ہیں۔ 2025 میں عوامی کمپنیوں کے بٹ کوائن ہولڈنگز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس کرپٹو کرنسی کی مقبولیت اور قبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
ریگولیٹری حوالے سے، ایپوک وینچرز نے کلیرٹی ایکٹ کے کانگریس میں پاس نہ ہونے کی توقع ظاہر کی ہے، لیکن اس کے بنیادی اصول سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ذریعے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کرپٹو کرنسی کی صنعت پر صارفین کے تحفظ کے حوالے سے مزید قوانین متوقع ہیں۔
کوانٹم کمپیوٹنگ کے ممکنہ خطرات پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے مارکیٹ میں حد سے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے اور فی الحال اس خطرے کو فوری طور پر سنجیدہ نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ کوانٹم ٹیکنالوجی ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی جہاں وہ بٹ کوائن کی سیکیورٹی کو متاثر کر سکے۔
مجموعی طور پر، ایپوک وینچرز کی رپورٹ بٹ کوائن کو ایک بالغ اور مستحکم مالیاتی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے، جس کے مستقبل میں ترقی کے روشن امکانات ہیں، خاص طور پر جب ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجیکل ترقیات میں اضافہ جاری رہے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine