سولانا بلاک چین پر مبنی ڈی فائی ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے حال ہی میں ایک میم کوائن متعارف کرایا جس کے بعد اس پر اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس میم کوائن کی لانچنگ کے فوراً بعد ہی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور تجارتی سرگرمیوں نے خدشات کو جنم دیا، جس کے باعث کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ اسنیپر نامی ایک تاجر نے اندرونی معلومات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔
میم کوائنز ایسی کرپٹو کرنسیاں ہیں جو عموماً سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر مقبول ثقافتی رجحانات یا مذاق کی بنیاد پر بنائی جاتی ہیں۔ اگرچہ ان کی قیمتیں اکثر بہت زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہیں، مگر بعض اوقات یہ سرمایہ کاروں کے لیے تیزی سے منافع کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔ سولانا بلاک چین اپنی تیز رفتار اور کم فیس کی وجہ سے ڈی فائی اور دیگر کرپٹو پروجیکٹس کے لیے ایک مقبول پلیٹ فارم ہے، جہاں متعدد نئے سکے متعارف کروائے جاتے ہیں۔
اسنیپر کے خلاف یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب میم کوائن کے ابتدائی لانچ کے دوران اس کے تجارتی حجم میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ یہ معاملہ کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور قانونی نگرانی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کو اکثر مالیاتی قوانین میں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
اگرچہ سولانا اور اس کی مختلف منصوبوں نے کرپٹو دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے، مگر اس طرح کے واقعات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ آئندہ کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سولانا کے اس اقدام کے خلاف کیا قانونی یا انتظامی کاروائیاں اٹھائی جاتی ہیں اور آیا یہ معاملہ کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا یا نہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt