ایلون مسک کی زیر ملکیت مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک کے ذریعے بچوں کی جنسی نوعیت کی تقریباً 23 ہزار 338 تصاویر تیار کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ رپورٹ سینٹر فار کانٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ نے جاری کی ہے، جو آن لائن نفرت انگیز مواد کی نگرانی کرنے والا ادارہ ہے۔ اس انکشاف کے بعد مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
گروک ایک جدید چیٹ بوٹ ہے جو ایلان مسک کی کمپنی کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اسے مختلف موضوعات پر بات چیت اور معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم، اس قسم کی تصاویر کی تخلیق مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں موجود خامیوں اور نگرانی کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ بچوں کی جنسی نوعیت کی تصاویر کی تیاری قانونی اور اخلاقی طور پر انتہائی سنگین مسئلہ ہے، جس پر دنیا بھر میں سخت قوانین موجود ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی نے متعدد مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس کے غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر ایسے نظام جنہیں مناسب حفاظتی تدابیر اور نگرانی کے بغیر آزاد چھوڑ دیا جائے، ان میں ایسی غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیاں جنم لے سکتی ہیں۔ اس واقعہ نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی نگرانی اور ضابطہ کاری کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے تاکہ اس کے منفی اثرات کو روکا جا سکے۔
آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے متعلقہ حکام اور کمپنیوں کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں اخلاقی اصولوں کی پابندی، محتاط نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt