کرپٹو کرنسی مارکیٹ نے 2025 میں ایک غیر متوقع اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور سال گزارا جسے مالی ماہرین ‘وِپسو’ سال قرار دے رہے ہیں۔ اس دوران مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، خاص طور پر غیر بٹ کوائن ٹوکنز کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہوئی۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں کمزور ویلیو کیپچر، بلاک چین پر سرگرمیوں میں سست روی، اور ریٹیل سرمایہ کاروں کے سرمایہ نکالنے کا رجحان شامل ہیں۔
پینٹیرا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ‘Navigating Crypto in 2026’ میں بتایا گیا ہے کہ بٹ کوائن کے علاوہ دیگر کرپٹو اثاثوں کی قیمتیں 2024 کے اواخر سے گرتی رہی ہیں، جس کی وجہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ، جو گزشتہ چند سالوں میں زبردست ترقی کی منازل طے کر چکی تھی، اب ایک پیچیدہ اور غیر مستحکم دور سے گزر رہی ہے جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط بننے پر مجبور کر دیا ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی یہ بلند و پستیاں ایک وسیع تر مالیاتی ماحول کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں جہاں عالمی معیشت میں سست روی، ریگولیٹری خدشات، اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے رجحانات شامل ہیں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ 2026 میں مارکیٹ میں بحالی کے امکانات موجود ہیں، جس کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی کی مزید جدت، بہتر ریگولیشن، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی ضروری ہوگی۔
کرپٹو مارکیٹ کی یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لئے چیلنجز بھی پیدا کرتی ہے اور مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ چونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ عام ہے، اس لئے محتاط حکمت عملی اپنانا اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لینا اہم ہو گا۔ آئندہ سال میں کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے مثبت تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، جو نہ صرف سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے بلکہ مارکیٹ کی مجموعی صحت کے لئے بھی مفید ثابت ہو گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk