بدھ کے روز سرمایہ کاروں نے کرپٹو کرنسیوں سے اپنی پوزیشنز کم کیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق اپنے سخت بیانات سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور ایتھیریم سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایف) کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔
ای ٹی ایف سرمایہ کاروں کو کرپٹو کرنسیوں میں براہ راست سرمایہ کاری کیے بغیر ان کے اثاثوں میں حصہ داری کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ مارکیٹ میں ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسے بڑے کرپٹو اثاثوں پر مشتمل یہ ای ٹی ایف خاص طور پر جدید سرمایہ کاروں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ تاہم، سیاسی اور عالمی تجارتی کشیدگیوں نے حالیہ دنوں میں کرپٹو مارکیٹ کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کے حوالے سے دیے گئے بیانات، جن میں انہوں نے اس جزیرے کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی، نے عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا تھا۔ ان کے بیانات میں نرمی کے بعد سرمایہ کاروں نے کرپٹو کرنسیوں میں اپنے اثاثے کم کرنا شروع کر دیے، خاص طور پر ایسے اثاثے جن کا تعلق امریکہ کی اقتصادی پالیسیوں سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح ٹریف (درآمدی محصولات) کی پالیسیوں پر غیر یقینی صورتحال نے بھی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، جس سے سرمایہ کار زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ عموماً عالمی اقتصادی اور سیاسی حالات سے حساس ہوتی ہے، اور اس قسم کی کشیدگی یا غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کے رجحانات پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر امریکی حکومت کی اقتصادی پالیسیاں واضح اور مستحکم رہیں تو مارکیٹ میں استحکام آ سکتا ہے، ورنہ اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt