ٹرمپ نے جے پی مورگن کے خلاف 2021 میں اکاؤنٹ بند کرنے پر 5 ارب ڈالر کا دعویٰ دائر کر دیا

زبان کا انتخاب

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن چیس کے خلاف 2021 میں ان کے اکاؤنٹس بند کرنے کے اقدام پر 5 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور ان کے کاروباری اداروں نے بینک کی جانب سے اکاؤنٹس کی بندش کو غیر قانونی اور نقصان دہ قرار دیا ہے۔
جے پی مورگن چیس امریکہ کا ایک سب سے بڑا اور معروف بینک ہے جو مختلف قسم کی مالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2021 میں، اس بینک نے ٹرمپ کے متعدد کاروباری اکاؤنٹس کو بند کر دیا تھا، جس سے ٹرمپ کے مالی معاملات میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ بینک کے اس اقدام کی وجوہات رسمی طور پر واضح نہیں کی گئیں، لیکن یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیاں اور ان کے خلاف جاری تحقیقات شدت اختیار کر رہی تھیں۔
بینکنگ سیکٹر میں اکاؤنٹس کی بندش یا “ڈیبینکنگ” کا عمل عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب بینک کو کسی صارف کے مالی یا قانونی مسائل کا خدشہ ہو۔ تاہم، اس واقعے نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا کہ کیا مالی ادارے سیاسی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے صارفین کے اکاؤنٹس بند کر سکتے ہیں یا نہیں۔
ٹرمپ کی طرف سے دائر کیے گئے اس دعوے میں کہا گیا ہے کہ جے پی مورگن نے ان کے کاروبار کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے انہیں مالی اور شہرت کے حوالے سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس مقدمے سے نہ صرف ٹرمپ کے مالی معاملات متاثر ہوں گے بلکہ اس کا اثر بینکنگ انڈسٹری میں اکاؤنٹس کی بندش کے حوالے سے قوانین اور ضوابط پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مستقبل میں یہ مقدمہ بینکنگ سیکٹر میں شفافیت اور صارفین کے حقوق کے حوالے سے اہم قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ کیس سیاسی اور مالی دنیا میں بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے کیونکہ یہ ایک سابق صدر کے خلاف مالیاتی ادارے کی کارروائی سے متعلق ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے