بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایٹھیریم نیٹ ورک پر سرگرمیوں میں ریکارڈ اضافہ درحقیقت حقیقی صارفین کی تعداد میں اضافے کی بجائے اسکیموں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس نوعیت کی اسکیمز کو ’ایڈریس پوائزننگ‘ کہا جاتا ہے، جس میں دھوکہ دہی کرنے والے جعلی یا مشتبہ ایڈریسز کو نیٹ ورک پر بڑھاوا دیتے ہیں تاکہ صارفین کو گمراہ کر کے ان سے مالی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ایٹھیریم، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ایک پلیٹ فارم ہے جو اسمارٹ کانٹریکٹس اور ڈی سینٹرلائزڈ ایپلیکیشنز کی میزبانی کرتا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس کے نیٹ ورک پر یوزر ایکٹیویٹی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم، حالیہ اضافے کے پیچھے حقیقی لین دین کی بجائے فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا ہاتھ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
ایڈریس پوائزننگ کی اسکیمز صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ وہ جعلی ایڈریسز کے ساتھ لین دین کریں، جس سے ان کا مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف صارفین کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ پورے نیٹ ورک کی ساکھ پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو چاہیے کہ وہ نیٹ ورک پر کسی بھی مشکوک ایڈریس کے ساتھ لین دین کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں اور صرف معتبر اور تصدیق شدہ ذرائع سے ہی کرپٹو کرنسی کی منتقلی کریں۔ اس کے علاوہ، نیٹ ورک کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی اسکیموں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
مستقبل میں، اگر ان اسکیموں پر قابو نہ پایا گیا تو ایٹھیریم نیٹ ورک کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور صارفین کا اعتماد کم ہو سکتا ہے، جو کہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ حکومتی ادارے، کرپٹو ایکسچینجز اور نیٹ ورک ڈویلپرز مل کر ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk