عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں کوائن بیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برائن آرمسٹرانگ اور فرانس کے مرکزی بینک کے گورنر فرانسوا ویلریو کے درمیان کرپٹو کرنسی خاص طور پر بٹ کوائن اور اس کے مالیاتی اثرات پر زوردار مباحثہ ہوا۔ اس موقع پر رپل کے سی ای او بریڈ گارلنگ ہاؤس نے مباحثے کو “جذباتی” قرار دیا، جہاں آرمسٹرانگ نے بٹ کوائن اور اسٹیبل کوائنز کی حمایت کرتے ہوئے ان کی مالیاتی نظام میں اہمیت پر زور دیا۔
آرمسٹرانگ نے بٹ کوائن کو ایک ممکنہ مالیاتی معیاری نظام کے طور پر پیش کیا، جو روایتی بینکنگ نظام کی حدود کو توڑ سکتا ہے اور صارفین کو زیادہ مالی خودمختاری فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، فرانس کے مرکزی بینک کے سربراہ ویلریو نے مالی خودمختاری اور مالی استحکام کے خطرات کی نشاندہی کی، خاص طور پر جب کرپٹو کرنسیاں مرکزی بینک کے کنٹرول سے باہر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بٹ کوائن اسٹینڈرڈ اپنانے سے ملک کی مالیاتی پالیسیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور یہ مالیاتی نظام کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
یہ مباحثہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کرپٹو کرنسیز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث مرکزی بینک اور مالیاتی ادارے ان کے اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ کوائن بیس جیسی بڑی ایکسچینجز اور رپل جیسی کمپنیاں بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کرنسیاں عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی کے لیے سرگرم ہیں، مگر ان کے خلاف مالیاتی ضوابط اور نگرانی کے لیے بھی زور بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مباحثے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت اور مالیاتی نظام میں اس کے انضمام کے حوالے سے اہم ہیں، کیونکہ مرکزی بینک اور کرپٹو انڈسٹری کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ مالیاتی استحکام قائم رہے اور صارفین کے مفادات محفوظ ہوں۔ مستقبل میں ممکنہ ضوابط اور تکنیکی ترقیات کرپٹو کرنسی کے استعمال اور اس کے مالیاتی اثرات کا تعین کریں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk