کریپٹو بل کی منظوری بینکنگ کمیٹی میں ہفتوں کی تاخیر کا شکار، Coinbase کا حمایت سے دستبردار ہونا سبب

زبان کا انتخاب

واشنگٹن میں نئے کریپٹو کرنسی قواعد و ضوابط کی منظوری کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ عمل کم از کم چند ہفتوں تک جاری نہیں رہ سکے گا۔ اس تاخیر کی بنیادی وجہ بینکنگ کمیٹی میں کریپٹو بل پر اتفاق رائے نہ ہونا اور سب سے اہم پلیئر Coinbase کا اس بل کی حمایت سے اچانک دستبردار ہونا ہے۔
کریپٹو کرنسیز کی صنعت میں ریگولیٹری فریم ورک مرتب کرنے کے لیے امریکی کانگریس میں کئی عرصے سے کوششیں جاری ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مالیاتی نظام کی شفافیت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ Coinbase، جو کہ امریکہ کی ایک بڑی اور معتبر کریپٹو کرنسی ایکسچینج ہے، اس بل کی حمایت کرنے والا ایک اہم ادارہ تھا۔ اس کی حمایت واپس لینے سے قانون سازوں کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے اور قانون سازی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
کریپٹو کرنسیز کی عالمی مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر، دنیا کے کئی ممالک نے اس شعبے کے لیے مخصوص قوانین بنانے شروع کر دیے ہیں۔ امریکہ میں بھی اس حوالے سے قواعد و ضوابط کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ تاہم، مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ اور تکنیکی پیچیدگیاں اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
اب جبکہ Coinbase کی حمایت ختم ہو چکی ہے، بینکنگ کمیٹی کو نئے سرے سے مشاورت اور اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ ایک متفقہ بل تیار کیا جا سکے۔ اس دوران، کریپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے جو سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی اقدامات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر اہم پلیئرز اور ریگولیٹری اداروں کی رائے بھی اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، کریپٹو کرنسیز کے حوالے سے امریکہ میں قانونی فریم ورک کا قیام ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے جس میں مختلف شعبوں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ موجودہ تاخیر اس عمل کا حصہ ہے اور آئندہ ہفتوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش