ناسا کا کہنا ہے کہ بین النجمی سیارہ صرف ایک دُم دار ستارہ ہے، عوامی قیاس آرائیوں کے باوجود

زبان کا انتخاب

ناسا کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ بین النجمی سیارہ “3I اٹلس” کے بارے میں جو قیاس آرائیاں پھیل رہی تھیں، ان میں کوئی غیر معمولی بات نہیں پائی گئی۔ کئی ہفتوں تک اس شے کے حوالے سے مختلف نظریات اور تجزیے سامنے آتے رہے، جن میں کچھ لوگوں نے اسے غیر معمولی یا انوکھا فلکیاتی جرم قرار دیا تھا۔ تاہم، ناسا کے تجزیاتی ڈیٹا نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ محض ایک عام دُم دار ستارہ ہے۔
دُم دار ستارے، جو کہ برف اور دھول کے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں، سورج کے قریب آنے پر گرم ہو کر ایک دم نما دھواں چھوڑتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دُم دار ستارہ کہا جاتا ہے۔ “3I اٹلس” اس لحاظ سے خاص تو تھا کہ یہ ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آیا تھا، اس لیے اس نے فلکیات دانوں اور عوام میں خاص دلچسپی پیدا کی تھی۔ بین النجمی سیاروں یا اجسام کی دریافت فلکیات میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ ہمیں دوسرے ستاروں کے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔
ناسا کے مطابق، “3I اٹلس” کے مشاہدے سے یہ واضح ہوا کہ اس کی ساخت اور رویے میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں پائی گئی جو اسے ہمارے نظام سے تعلق نہ رکھنے والی غیر معمولی شے بنائے۔ اس کے مدار، کیمیاوی اجزاء، اور روشنی میں جو تبدیلیاں آئیں وہ روایتی دُم دار ستاروں سے مطابقت رکھتی ہیں۔
اس قسم کے مشاہدات نہ صرف ہمارے نظام شمسی کے باہر کی دنیا کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ فلکیاتی تحقیق کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ تاہم، ناسا کی وضاحت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عوامی قیاس آرائیاں سائنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ قیاس و گمان پر مبنی ہوتی ہیں۔
آگے چل کر، اس طرح کی دریافتیں فلکیات دانوں کو مزید جدید آلات اور مشنوں کے ذریعے بین النجمی اجسام کا تفصیلی جائزہ لینے کی ترغیب دیں گی تاکہ کائنات کے رازوں کو مزید قریب سے سمجھا جا سکے۔

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے