برطانیہ کے مرکزی بینک نے السلوادور کے ٹوکنز کے خطرات سے صارفین کو آگاہ کرنے پر زور دیا

زبان کا انتخاب

برطانیہ کے مرکزی بینک کے نائب گورنر نے صارفین کو السلوادور کے ذریعے جاری کردہ کرپٹو ٹوکنز کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صارفین کو ان اثاثوں کی نوعیت اور متعلقہ مالی خطرات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر کرپٹو کرنسیز اور خاص طور پر مستحکم کوائنز (Stablecoins) کے حوالے سے نگرانی اور ضوابط میں اضافے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
السلوادور نے دنیا کے پہلے ملک کے طور پر بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت اس نے اپنی اقتصادی پالیسیوں میں کرپٹو کرنسی کو اہم مقام دیا۔ تاہم، اس کے بعد مختلف کرپٹو اثاثوں اور ٹوکنز کے حوالے سے خطرات اور مالی استحکام کے مسائل سامنے آئے ہیں، جنہیں عالمی مالیاتی ادارے بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
برطانیہ میں اس حوالے سے خاص طور پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ مستحکم کوائنز کے ضوابط کو کمزور کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں، سابقہ مالی واقعات جیسے کہ سلیکون ویلی بینک اور سرکل کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، برطانیہ امریکہ سے مختلف حکمت عملی اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ مالیاتی نظام میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ مستحکم کوائنز وہ ڈیجیٹل کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت کسی مستحکم اثاثے، جیسے کہ امریکی ڈالر، سے منسلک ہوتی ہے اور یہ عام کرپٹو کرنسیز کی نسبت کم اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں۔
مستقبل میں، برطانیہ اور دیگر ممالک کی کوشش ہوگی کہ وہ کرپٹو کرنسیز کی نگرانی اور ضوابط کو مضبوط کر کے صارفین کے مفادات کا تحفظ کریں اور مالیاتی نظام میں ممکنہ خطرات سے بچاؤ کو یقینی بنائیں۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری سے قبل مکمل تحقیق کریں اور خطرات کو سمجھیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے