سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے چیئرمین پال ایٹکنز نے حال ہی میں بلاک چین ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں کہا ہے کہ تمام اقسام کی ابتدائی کوائن آفرنگز (آئی سی اوز) کو سیکیورٹیز کے زمرے میں نہیں لایا جانا چاہیے اور اس طرح انہیں ایس ای سی کے ضوابط سے باہر رکھا جانا چاہیے۔ ایٹکنز نے اپنی جانب سے متعارف کرائی گئی ٹوکنز کی درجہ بندی کے فریم ورک کا حوالہ دیا، جس میں کرپٹو کرنسی کی صنعت کو چار بنیادی ٹوکن کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیٹ ورک ٹوکنز، ڈیجیٹل کلیکٹیبلز اور ڈیجیٹل یوٹیلٹیز کو سیکیورٹیز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، اور ان سے متعلقہ آئی سی اوز کو بھی غیر سیکیورٹیز ٹرانزیکشنز سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایس ای سی کو صرف انہی آئی سی اوز کی نگرانی کرنی چاہیے جو ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز سے متعلق ہوں، یعنی وہ سیکیورٹیز جنہیں پہلے سے ہی ایس ای سی کے تحت ریگولیٹ کیا جا رہا ہو۔
آئی سی اوز ایک ایسا طریقہ ہیں جس کے ذریعے نئی کرپٹو کرنسی یا ٹوکنز کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، مگر بعض اوقات انہیں سیکیورٹیز قوانین کے تحت لانے کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ تاہم، ایٹکنز کا موقف ہے کہ تمام ٹوکنز کو ایک ہی معیار سے نہیں ناپنا چاہیے، کیونکہ اس سے انڈسٹری کی ترقی میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب دنیا بھر میں کرپٹو کرنسیوں کی ریگولیشن پر بحث جاری ہے اور مختلف ممالک اپنی اپنی پالیسیز متعارف کروا رہے ہیں۔ محدود نوعیت کی ریگولیشن سے کمپنیوں کو جدت اور ترقی کے لیے مناسب ماحول مل سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں، اس فریم ورک کے تحت مختلف ٹوکنز کی قانونی حیثیت واضح ہو جائے گی اور مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance